Friday, August 10, 2012

Mullahs and Development


The mullahs are once again at odd with Civil Society Organizations and NGOs in Pakistan. Recently in Kohistan, the clergies have repeatedly threatened the NGOs to wrap up their activities or face dire consequences.
Two theories are predominant in Pakistan vis-à-vis civil society organizations and human right organizations. One theory is of religious clergies whereby they observe a strong Jewish conspiracy behind the functioning of NGOs and CSOs to corrupt Muslim societies. Another theory is postulated by eminent economist and development practitioners who are of opine that “The failure of government policies in reducing poverty paved the way for emergence of NGOs. The basic purpose of these NGOs was to act as a catalyst between government and communities, keeping their separate identity and less intervention from government. The state institutions and its public policy were unable to tackle core public issues, so a new, participatory, and democratic institution with new paradigm was necessity of time”. (S. Akbar Zaidi, ‘Issues in Pakistan’s Economy’ OUP, 1999. pp# 413-16).
But it seems obvious now that our hostile attitude towards CSOs and NGOs are shaped by clergical thoughts.
Edict against NGOs is not a recent phenomenon in Pakistan’s rural areas. It has been practiced like faith to mislead people against NGOs by religious clergies. Renowned development practitioner and founding General Manager of Aga Khan Rural Support Program, Mr. Shoaib_Sultan_Khan  in his book Aga Khan Rural Support Programme A Journey Through Grassroots Development narrates that how a development program like Aga Khan Rural Support Programme was propagated to be a sectarian program by religious ulemas and asked people to ban the program as it was sponsored by His Highness the Aga Khan, the spiritual leader of Ismaili community and thus a conspiracy to create an ‘Ismaili State’ in Gilgit Baltistan. Due to such strong religious propaganda AKRSP was not able to initiate any developmental program in Chilas – one of seven districts headquarters of Gilgit Baltistan. A man of international repute and a recipient of Magsaysay Award, he observes in his book that in Chilas the ““ulema issuing fatwas (against AKRSP) were not from Chilas but from Kohistan and KPK” (P#191). Shoaib Sultan states that the fatwas were so obnoxious that “in some places, they remained unconvinced and despite my being a born Sunni felt that I had sold my soul.” (Page #191). Khan further states, “Once I took Akhter Hameed Khan  to a diehard religious area and he asked the people that if they did not take advantage of the modern education and technology AKRSP is offering to them, they would be left far behind like the Mughals were left far behind the foreigners but they did not budge”.(P#191)
Civil Society Organizations and Non-Governmental Organizations play a vital role in providing jobs and mobilizing the communities. Their importance cannot be denied in mobilizing communities and building their capacities by adopting the ‘Participatory Development Approach.’ According to a report of Pakistan Centre of Philanthropy more than 100000 CSO and NGOs are working in Pakistan. Many Pakistani models of community development have received world recognition which includes Adult Basic Literacy Education initiated by Vincent David, Leprosy Reduction Initiative of Dr Ruth Pfau,Orangi_Pilot_Project of Dr. Akhter Hameed Khan, AKRSP model of Shoaib Sultan Khan, Akhuwat Model of Amjad Saqib andSindh_Institute_of_Urology_and_Transplantation program of Dr. Adeeb-ul Hasan Rizvi.
But, unfortunately, in Pakistan governments perceive NGOs their competitors and clergies consider them as a great conspiracy of west to sabotage the Islamic culture in Pakistan. For this very basic reason, many representatives of humanitarian agencies have been recently kidnapped and killed in Pakistan. The killing of Farida-Afridi and abduction of other foreign aid workers in Pakistan is a sign of drifting more towards obscurantist paths.
Civil Society Organizations and NGOs must not be considered competitors by government or a conspiracy hatched by Jews or other unforeseen forces by Pakistani people. They serve the people devoid of basic necessities of life in times of crisis and play a vital role in their own capacities to enhance the living conditions of rural and urban population.
The tattered economy of Pakistan cannot sustain and deliver in its current capacity. In such conditions, how Pakistan allows multiple ideas to be flourished and multiple actors to work will shape the future of the country.
Pakistan needs lot to do for building public-private partnership and to provide security to the people working with grass-root communities. In a society where hope for the future often becomes hope for survival, killing sane voices like Farida Afridi and other human right activists, social activists and community workers is a sign of medival thoughts and banning and opposing NGOs is a sheer stupidity depicting our prejudices against development, knowledge and civilization.

 (Originally posted here)

Friday, June 15, 2012

میں اور جون



وہ ایک ایسی تصویر تھی جسے دیکھ کر حد درجہ کراہت کا احساس ہوتا تھا- منتشر بال ، پچکے ہوے گال، سرخی مائل ہونٹ    اور ایک ہڈی نما قبرستان جیسا جسم – اس تصویر نے مجھے کبھی بھی متاثر نہیں کیا- کتا ب کے فلیپ پیج پر اس تصویر کی وجہ سے میں شدید خواہش کے باوجود بھی اسکی کوئی کتاب کبھی نہیں خرید پایا-
میں نے اسکا کلام سنا ہوا تھا – کبھی کسی دوست کی زبانی اور کبھی کسی اخبار میں-  آہستہ آہستہ تصویر سے میری نفرت پہ کلام کی محبت غالب آئی اور پھر میں نے پھلی دفعہ اسکی کتاب خریدی یعنی میں پہلی دفعہ جناب جون ایلییا سے متعارف ہوا اور آج تک حضرت جون کی سحر سے آزاد نہیں ھو پایا-
جون بھائی کو سمجھنے کے لیے اس کے خاندانی پس منظر کو سمجھنا بہت ا ہم ہے- جون بھائی کے والد علامہ شفیق حسن اپنے دور کے واحد ہندوستانی تھے جو کہ عظیم ریاضی دان، فلسفی، اور
ادیب سر برٹرینڈ رسل کے ساتھ فلسفے اور سیارچوں کے علوم پہ خط و کتابت کرتے تھے اور بقول جون وہ واحد شخص تھے جواپنی زندگی میں جنت اور جہنم کے نقشے بنا چکے تھے- آپ کے بھائی اپنے دور کے نامور نفسیات دان تھے- جون کو علمی ماحول ورثے میں ملی تھی جسکی وجہ سے اسے فارسی، عربی ، عبرانی اور انگریزی زبان پر مکمل دسترس حاصل ھو چکی تھی- عبرانی زبان جاننے والے گنے چنے لوگ تھے جن میں جون بھائی بھی شامل تھے-
جون بھائی معاشرے کے ان مستشنییات میں سے تھے جو کہ صدیوں بعد جنم لیتے ہیں-  اگرچہ لوگوں کے مطابق جون بھائی ایک ہا رے ہوے شخص تھے مگر میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک ہا رے ہو ۓ معاشرے کے کا میاب شخص تھے جو معاشرے کے خود ساختہ نظریات سے بہت اوپر اٹھ گۓ تھے-
جون بھائی تمام زندگی ایک مثالی دنیا کی تلاش میں رہے- وہ بہت بچپن سے ہی خلیل جبران کی طرح اپنے خیالی محبوبہ صوفیه کو خیالی خطوط  لکھتے رہے-
جون بھائی تمام عمر خود کو بچہ سمجھتے رہے- اسکی وجہ جون کا اپنے والد سے کیا ہوا وعدہ تھا کہ وہ بڑا ہو کر اپنے والد کی لکھی ہوئی تحریروں کو کتابی شکل دیں گے- لیکن پھر نہ کتابیں چھپ سکیں نہ جون بھائی بڑا ہو سکا-
امروھے سے ہجرت کا دکھ وہ کبھی برداشت نہیں کر سکے – وہ تقسیم کے ستاۓ ہوۓ تھے- مہاجروں کے خلاف تعصب نے جون بھائی کو اور بھی برگشتہ کیا-
کیا پوچھتے ہو نام و نشان مسافران . ہندوستان میں أۓ ہیں ہندوستان کے تھے –
جون کے بڑے بھا ئی رئیس امروہوی کے قتل نے جون کے اندر بے بسی کی وہ کیفیت پیدا کر دی جس سے جون کبھی نہیں نکل سکے- اردو کے مشہور ادیبہ فہمیدہ ریا ض کے مطابق  جون بھائی اکثر حیران ہو کر کہتے: تعجب ہے، میں کون ہوں؟ میں کہاں ہوں؟ اور یہ کیا مقام ہے جہاں میں ہوں؟ ان کے روشن اور بے قرار ذہن سے تمام راستے، سڑکیں اور گلیاں، سب محو ہوئے ایک مدت ہو چکی تھی۔
جون بھائی ایک ا یسے انسان تھے جس نے بنا کسی خوف کے ببانگ دھل اپنا نظریہ پیش کیا – جون خود احتسابی کے جتنے زیادہ قائل تھے اس سے زیادہ وہ احتساب کے بھی قائل تھے – وہ سب کا احتساب چا ہتے تھے -
وہ خدا ہو کہ آدم و ابلیس – سب کے سب آزما ۓ جا ئیں گے –
 جون کے مشا عروں میں شعر پڑھنے کا اپنا الگ انداز تھا- وہ صرف شعر نہیں سنا تے بلکہ ہر شا عر کو آواز دے کر پکارتے تھے – شاید اپنے ہونے کا احساس دلانے یا پھر شاید توجہ حاصل کرنےکی خاطر-
جون بھائی ایک انارکسٹ تھے – اس نے ہمیشہ سماج کے خود ساختہ مسیحاؤں اور مذھب کے رکھوالوں کی ڈنکے کی چوٹ پہ مخالفت کی –
جس کو بھی شیخ و شاہ نے حکم خدا د یا قرار .. ہم نے نہیں کیا وہ کا م ہاں بخدا نہیں کیا-
 جون بھائی ایک فلسفی تھے مگر لوگوں نے اسے مسخرہ سمجھا- یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ اردو ادب پڑھنے والوں نے آج تک جون بھائی کو وہ مقام نہیں دیا جسکے وہ حقدار تھے-شاید اسی لیے جون بھائی نے کہا تھا کہ یہ بونوں کا معاشرہ ہے اور میں ایک بونا شاعر ہوں-
جون بھائی طیش کھاتے رہتے تھے۔ علم کی بے قدری پر، انسانی اقدار کی بے حرمتی پر، جہالت کی مکمل حکمرانی پر، ایسی تمام باتوں پر جن پر کئی عشروں سے اب کسی کو غصہ نہیں آتا۔
سسپنس ڈایجسٹ کے لۓ لکھے گۓ جون بھائی کے اداریےآج بھی اتنے ہی حالات سے مطابقت رکھتے ہیں جتنے تب- اسی لیے سسپنس ڈایجسٹ کے آج کے اداریے بھی جون بھائی کے تب کے  لکھے گۓ تحریروں پر مبنی ہے- جون کس معیار کا مفکر تھا اس کا اندازہ صرف جون بھائی کے دو اقتباسات پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے-
یہ کون لوگ ہیں جو اک دوسرے کو قتل کر ڈالتے ہیں اور یہ قتل کرنے والے ہمیشہ مذھب کے قبیلے سے ہی کیوں اٹھتے ہیں- ہم دیکھتے ہیں کہ عقل اور فلسفے کے لوگ کبھی اک دوسرے کو قتل نہیں کرتے- افلاطون اوردیمقراطیس کے گروہ کبھی اک دوسرے سے نہیں ٹکراۓ- فارابی کے مکتبہ خیال نے شیخ شہا ب کی خانقاہ کے مفکروں پر کبھی حملہ نہیں کیا- ایتھنس کے ہیکل کے دروازے سے کبھی کوئی ایسا ہجوم نہیں نکلا جس نے انسانوں کی گردنیں اڑا دی ہو اور شهروں کو اگ لگا دی ہو- فتنہ و فساد کی اگ ہمیشہ مذہبی فرقوں کے درمیان ہی کیوں بھڑکتی ہے ؟  
ہم ایک ہزار سال سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا اورکچھ نہیں کر رہے ہیں-
جون کم ظرف معاشرے کا با ظرف انسان تھا جس نے معاشرے کو انسانی اقدار یاد دلانے کی کوشش کی مگر خود کو تباہ کر بیٹھا اور اپنے تبا ہی پہ وہ نا زا ں رہے –
میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس ..  خود کوتبا ہ کر لیا اور ملال بھی نہیں- 

(Originally posted here)

Thursday, June 14, 2012

بلا عنوان


چچا غالب نے کہا تھا اور درست کہا تھا کہ آدمی کو انسان بننا میسر نہیں ہے – آدمی انسان کیا بنتا کہ وہ تو آدمی بھی نہ رہا –
آدمیت کی تعریف شاید آدم سے بھی نہ ہو سکے – یہ بات بذات خود ایک معمہ ہے کہ کیا آدم کی کوئی تعریف بھی ہے  - آدم کی تاریخ سے انکار البتہ ناممکن ہے –
بات دراصل یہ ہے کہ آدمی آدمی ہی نہ رہا جس طرح رفیع نے کہا تھا کہ دوست دوست نہ رہا ، یار یار نہ رہا –
آدمی کی آدمیت تضادات کا مجمو عہ ہے – آدمی جو کبھی کا یینا ت کا حسن ہوا کرتا تھا آج کا یینا ت کے ماتھے کا سیاہ داغ ہے – میا ں بات فقط اتنی ہے کہ آدمی اور آدمیت دونوں پہ بحث ہی فضول ہے – 

Wednesday, June 13, 2012

Child Labour in Pakistan


Child labour is a global issue. The pictures show how the innocent children are engaged in laborious tasks in Pakistan in very young age.  Photo Courtesy: The Express Tribune


http://tribune.com.pk/multimedia/slideshows/392558/

Monday, April 30, 2012

اعتماد از جون ایلیا... انتخاب : مصطفی کمال



 میں کو ئی اور راۓ رکھتا ہوں اور تم کو ئی اور را ۓ رکھتے ہو- میں کسی اور جماعت کے ساتھ ہوں اور تم کسی اور جماعت کے ساتھ ہو- یہ کو ئی ایسی بات نہیں ہے جسے برا سمجھا جاۓ یا سمجھا جانا چا ہیے- یہ تو سچ کو تلاش کرنے کا ایک طریقہ ہے – میں سچ کو دا ئیں طرف تلاش کرتا ہوں اور تم با ئیں طرف – پر یہاں کا جو طور ہے، جو طور رہا ہے وہ عجب کچھ ہے- یہاں ایک دوسرے سے جدا را ۓ رکھنے کا مطلب ہے ایک دوسرے کا دشمن ہونا- ایک دوسرے پر کسی بھی معاملے میں اعتماد نہ کرنا-        
 کیا عقل و ہوش کی سلا متی اور سیاست کے یہی معنی ہیں- ایک جماعت کسی بھی معاملے میں دوسری جماعت پراعتماد کرنے کے لۓ تیار نہیں ہے- دونوں ایک دوسرے کو ملک کا دشمن اور قوم کا غدار خیال کرتے ہیں- ان دو لفظوں کے علاوہ اپنے حریف کے لۓ ہمارے پاس کوئی اور لفظ نہیں ہے-
     بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر گروہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کائنات کی سا ری اچھائییا ں اس کی جیبوں میں جمع ہو گئ ہیں، وہ اس زمین کا سب سے منتخب،محبوب اور برگزیدہ گروہ ہے اور تاریخ نے آج تک کا جو سفر طے کیا ہے، اس کی غرض و غایت ہی یہ تھی کہ اس منتخب،محبوب اور برگزیدہ گروہ کو اس دور کے حوالے کریں اور بس-
تم کون ہو اور ہم کون ہیں؟ اور ہما رے گمان، ہما رے خیال اور ہما رے را ۓ کی بھلا حقیقت ہی کیا ہے- تمھا رے ذہن کی کشکول میں اخر وہ کون سی دلیل ہے اور وہ کون سی حجت ہے جس کے توڑ کے لۓ ہما رے ذہن کے کشکول میں کو ئی دلیل اور کوئی حجت موجود نہ ہو- اور ہمارے ذہن کے کشکول میں آخر وہ کون سی دلیل اور وہ کون سی حجت ہے جس کے توڑ کے لۓ تہما رے ذہن کے کشکول میں کو ئی دلیل اور کوئی حجت موجود نہ ہو-
کیا ہما رے با طن سے یا تمھا رے باطن سے الہام کا کوئی رشتہ پایا جاتا ہے؟ ہم میں سے آخر وہ کون ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ہم نے جب بھی سانس لیا ہے تو سچ میں سانس لیا ہے- ہم نے جب بھی سوچا سچ میں سوچا- سچ کے ساتھ سوچا اور اول سے آخر تک سچ ہی سوچا-
سوچو اور یہ سوچنے کی نیک عادت ڈالو کہ دوسرے جو کچھ سوچ رہے ہیں وہ بھی سچ ہو سکتا ہے- آسمان سے تم اترے ہو اور نہ تمھا رے حریف- تمہیں وجود میں لانے کے لۓ زمین اور آسمان نے اتنی ہی مشقت اٹھا ئی ہے جتنی مشقت تمھا رے حریفوں کو وجود میں لانے کے لۓ اٹھا ئی ہے-
ایسا کیوں ہے کہ تم کسی بھی را ۓ اور کسی بھی خیال کے بارے میں اپنے سوا کسی دوسرے پر اعتماد کرنے کی کوئی بھی اہلیت نہیں رکھتے؟ ایسا کیوں ہے کہ سچ اور سچا ئی کو تم نے بس اپنی ہی دستاویز کا ایک گوشوارہ سمجھ رکھا ہے؟ اور میرا یہی سوال تمہارے حریف سے بھی ہے-
ایک ہی حق تو ہے جو تم بھی مانگتے ہو اور تمہارا حریف بھی مانگتا ہے اور وہ حق ہے، راۓ رکھنے اور اسے ظاہرکرنے کا- تم وہ راۓ رکھو جو تمہیں درست معلوم ہوتی ہے اور دوسروں کو وہ را ۓ رکھنے کی آزادی فراہم کرو جو انہیں درست معلوم ہوتی ہے اور تم دونوں اس معاملے پرایک دوسرے پراعتماد کرو کہ جو کچھ دوسرا کہہ رہا ہے وہ اس کی را ۓ ہے ریا کاری نہیں-
اگر یہ اعتماد باقی نہیں رکھا گیا اور اس معاملے میں بھی بے اعتمادی کو کام میں لا یا گیا تو پھر بولو اور بتا ؤ کہ پھررو ۓ زمین پراس بات کا فیصلہ آخر کون کرے گا کہ جو تمہارا خیال ہے وہ تو خیال ہے اور جو دوسرے کا خیال ہے وہ نیت کی خرابی اور خلل ہے- ایک دوسرے کے بارے میں اعتماد کو کام میں لا ؤ اور پھر اپنے دلیل اور دعوؤں کی بساط بچھاؤ-
بحث ہونی چاہیے اور جاری رہنی چاہیے- شکوہ کس بات کا ہے، شکوہ اسی بات کا ہے کہ یہاں بحث نہیں ہوتی- ہم لوگ ابھی تک بحث کے خوگر نیہں ہوۓ ہیں- ہم تو بد گوئی اوربد بحثی کی عادت میں مبتلا ہیں-
بحث ذہن کی دانشمندانہ اور دانش جویانہ حالت کا نتیجہ ہوتی ہے اور ہم ذہن کی دانشمندانہ اور دانش جویانہ حالت سے محروم ہیں- ہم جب تک ذہن کی اس حالت سے محروم رہیں گے اس وقت تک ہما رے اور سچائی کی خواہش کے درمیان کوئی رشتہ قائم نہیں ہو سکتا-
  

Saturday, April 28, 2012

Bench-boots connivance



The bench-boots connivance has brought a great deal of benefits to judges collaborating with the military rulers. Even Justice Iftikhar Chaudhry was promoted as CJP by surpassing Justice Falak Sher mere because he was at one point an eager devotee of the Musharaf regime.
Of all the three organs of the state, judiciary is supposed to play a vital role for sustaining democracy and rule of law in the country. Judiciary elaborates the hidden meanings of the constitutional clauses and hence clarifies the ambiguities prevailing in the constitution, its wordings and its structure. Judiciary clarifies the allocation of powers and their distribution among various organs of the state and marks their functions, roles and responsibilities.
Historically speaking, the role of judiciary in Pakistan has never been satisfactory. Inclination of judiciary and judges towards the military dictators in Pakistan has brought this institution under severe public criticism. It is because of these prevailing injustices and inclination towards specific groups and rulers that today in Pakistan, deteriorating condition of law and order, accountability and corruption is rife.
Under the military regimes the Article 8 and other such articles which guarantee the basic human rights of citizens are suspended. The only well articulated, parliamentary and civilian constitution of Pakistan, the constitution of 1973 has been either suspended or abrogated by various military regimes. Twenty-nine amendments were inserted in the constitution during the military regime of Pervez Musharaf only. However, the judiciary always played the silent spectator when a military dictator was busy tinkering with country’s constitution.
The judiciary went off-track in 1954 when it endorsed the illegal action of Governor General Ghulam Muhammad’s dissolution of Constituent Assembly. The highest court validated the decision and the appeal of speaker Molvi Tameez ud Din for the restoration of the dissolved Assembly was dismissed. The famous doctrine, the ‘Doctrine of Necessity’ was created. From that moment onwards this doctrine has always lent our military dictators a helping hand.
The generals have ruled Pakistan with the help of judges of higher courts of country. A judiciary playing second fiddle to the GHQ has haunted civilian governments since long.
It was our judiciary that legitimised the military dictatorships of Ayub Khan, Zia ul Haq and Pervez Musharaf. The execution of arguably most popular civilian Prime Minister, Z. A. Bhutto, became possible when the judiciary connived with the military.
It raises legitimate questions regarding the integrity of judges.
The bench-boots connivance has brought a great deal of benefits to those judges who collaborated with the military rulers in the country. Justice Irshad Hassan, for instance, who took oath under the PCO was later appointed as the Chief Election Commissioner of Pakistan. Even Justice Iftikhar Mohammad Chaudhry was promoted as the Chief Justice of Pakistan by surpassing Justice Falak Sher mere because Justice Chaudhry was at one point an eager devotee of the Musharaf regime. Lest we should forget it was Justice Iftikhar Chaudhry who endorsed Musharaf’s presidency and legitimized his position as the Chief of Army Staff (COAS). He legalized the referendum that the Musharaf regime enacted to seek legitimacy. My Lord considered it a ‘public verdict’.
The ongoing judicial activism in Pakistan will bode ill for the country’s future. As a result of this activism the judiciary in Pakistan will not be answerable to the parliament, the supreme law-making body. The entire process of hiring and firing of judges along with their promotions will be a prerogative of the Chief Justice entailing a high risk of personal liking and bias.
The appointment of High Courts judges during 2011 reveals the danger: five Lahore High Court-judges belonged to Hamid Khan Chamber while another five were rooted in the chamber having kinship with Justice Khwaja Shareef. One judge, Justice Umer Peerzada, was affiliation with the ruling PPP while Justice Yawar Ali was Justice Ramday’s brother-in-law. Similarly, Justice Hameed Daar is related to Justice Khwaja Shareef. This is just tip of the iceberg. The iceberg of judicial nepotism will require a book-length study. With such strong trends of nepotism based on political affiliations and kinship, access to transparent justice remains a mirage.


(Originally published here)

Wednesday, April 18, 2012

امن- ایک نا گزیر ضرورت




امن نام کی کوئی  شے سرے سے موجود ہی نہیں اور جسے ہم امن کہتے ہیں وہ "دو جنگوں کے درمیان وقفے کا نام ہوتا ہے جس میں اقوام یا تو آرام کر رہے ہوتے ہیں یا دوسری جنگ کی تیاری "- یہی ماہرین عمرانیا ت کی راۓ ہیں اور حقیقت کے 
قریب ترین راۓ-
ہر دوسری جنگ پہلی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہوتی ہے- ہر دوسری جنگ پہلی جنگ کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن 
جنگی آلات سے لڑی جاتی ہے - ہر دوسری جنگ میں پہلے کی نسبت زیادہ لوگ خدا، بھگوان ، مذھب ، دھرم، مٹی اور وطن کے نام پر قربان ہو تے ہیں - تاریخ اس طرح کی مثالوں سے بھری پڑی ہے -
جنگوں کی تاریخ بھی دلچسپ ہے - عظیم برطانوی سا ینسدان ، مورخ اور ادیب سر رسل کے مطابق جنگوں کے لڑے جانے کی دو ا ہم وجوہات ہیں - اول تو یہ کہ "لوگ جنگ اور تباہی کو دولت اور بچوں سے بھی زیادہ پسند کرتے ہیں " اور دویم یہ کہ "جنگ اور خصوصاّ ایٹمی جنگ کے بارے میں سیاستدانوں اور اخبارات نے غلط اندازے لگا ۓ ہیں - بہت سے صا حب نظر لوگ انسانیت کے بقا کی بجا ے دشمن کو شکست پہنچا نے کا اندازہ لگا رہے ہیں - لیکن ہم نہیں سمجھ رہے کہ دشمن کی شکست درحقیقت ہماری اپنی شکست ہے- "
رسل سے زیادہ سادہ الفاظ میں جنگ کی وجوہات کا جایزہ لینا نا ممکن عمل ہو گا- درحقیقت دشمن کی شکست ہماری اپنی شکست سے بڑھ کر فطرت کی شکست ہوتی ہے ، کیونکہ ہم اور دشمن دونوں ایک ہی  فطرت کے گود میں پرورش پا رہے ہو تے ہیں- ہم اور دشمن دونوں ایک ہی  فطرت کے وسایل پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں- ہم اور دشمن دونوں ایک ہی  فطرت میں اپنی نسلوں اور ملکوں کے پھیلاؤ کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں اور یہ فطرت اپنی تمام تر خوبییوں اور خامیوں کے باوجود ہم دونوں کی پرورش کرتی ہے اور فطرت کی تبا ہی کے ساتھ ہم صرف دشمن کو ہی نہیں بلکہ اپنی خود کے تبا ہی کے اسباب بھی فراہم کرتے ہیں-
دوسری جنگ عظیم میں جاپانیوں کی ہلاکت بذات خود ان کی نہیں بلکہ عالم انسانیت کی ہلاکت تھی - عراقیوں کے زخموں سے رسنے والا خون سب کے دامن پر چھینٹے ہیں - دشمن کی شکست کی خبر کیمروں کی چکا چوند روشنی اور پر ہجوم پریس کانفرنس میں سنا نے والے رہنما خود اپنی تبا ہی کے مژ دے سنا رہے ہوتے ہیں لیکن لا علمی اور انتقام کی وجہ سے وہ اسے دشمن کی شکست تصور کر کے تخیلاتی دنیا میں جی رہے ہو تے ہیں -  
تاریخ اس بات کا شا ھد ہے کہ انسانی جبلت ہمیشہ وحشت اور درندگی کی طرف مایل رہی ہے - اسکی کہی وجوہات ہیں-ایک وجہ وہ ہے جسکی طرف عظیم روسی ادیب میکسم گورکی  نے اشارہ فرمایا ہے کہ " کچھ لوگ دوسروں کو اس لیے ما رتے ہیں کہ وہ قانون کی زد سے باہر ہوتے ہیں - کچھ دوسرے لوگ ہیں جو انتقام کے مرض کا شکار ہیں اور کچھ وہ ہیں جنکی خود اتنی مرمت ہو چکی ہوتی ہے کہ وہ گونگے بھرے بن جا تے ہیں - اس طرح اس درندہ صفت زندگی میں ہر شخص اپنی مرضی کے خلاف درندہ بن جاتا ہے-"  اور پھر یہ درندگی انسانی اقدار ، ادب اور زندگی کا حصہ بن جاتا ہے -
امن کا قیام اس لیے بھی مشکل ہے کہ بعض لوگوں کے کے نزدیک جنگ اک تماشہ ہوتا ہے- دنیا بھر کے فوجی اکیڈمیوں میں 'وار گیم زونز' ہو تے ہیں - اب اگر جنگ کو ایک گیم سمجھ کر کھیلا جا ے تو امن کے آثار با لکل ہی معدوم ہو جا ئینگے- ضرورت اس امر کی ہے کہ جنگ کے خطرات سے لوگوں کو آگاہ کیا جا ے اور فوج کے افسروں اور جوانوں کو یہ سکھایا جاۓ کہ جنگ ایک کھیل نہیں بلکہ ایک خوفناک تباہی ہے-
امن اقوام کے لیے اور ممالک کے لیے وسیع بنیادوں پر پھلے سے بھی ضروری اور نا گزیر ہو چکی ہے- انفرادی اور اجتماعی سطح پر امن کے لیے کو ششیں تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے- ایک پرامن معاشرے کے قیام کے لیے ہمیں نہ صرف گوناگونی اورتکثیریت کا احترام کرنا ہو گا بلکہ اس کے حدود و قیود بھی متعین کرنے ہوں گے- وسیع پیمانے پر 'امن نصاب' متعارف کرنے کی اشد  ضرورت ہے-
حالات اور وقت کا تقاضہ ہے کہ ایسا نصاب تعلیم متعارف کیا جاۓ  جو کہ مذہبی تعصب کی بجائے آفاقی تصورات پر مبنی ہو، جس میں ہر مذھب کے اعتقادات شامل ہو جو کہ برداشت، لچک اور رواداری کو فروغ دے سکیں-
گوتم بدھ نے فرمایا تھا کہ "صرف امن ہی امن پیدا کر سکتی ہے-" اور آج پوری دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے امن کا پیدا کرنا ضروری ہے - بدلے اور ہتھیار کے ذریعے امن قائم رکھنے کا عمل ہمیں تباہی کی طرف لے جاۓ گی- طاقت کے استمعال کو روک کر مذاکرات کا راستہ اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اختیارات اور طاقت کے استمعال سے ہمیشہ غیر حقیقی کامیابی مل جاتی ہے-


(Originally posted here)