Monday, December 8, 2014

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

اب تک فقط جمود ہی لکھا گیا – وہ الفاظ لکھے ہی نہیں گئے جنکا لکھا جانا واجب تھا – ان حالات کا تجزیہ ہی نہیں کیا گیا جو وقت کے مقابل آئینہ بن کر ہمیں ایک خونی مستقبل کی تصویر دکھا رہے تھے – فقط اوراق سیاہ کئے گئے اور حاشیہ نگاری کی گئی- کچھ اداروں کی اٹھتے بیٹھتے تضحیک کی گئی اور دیگر کے اوپر وقار کا لیبل لگا کے انہیں سلامتی کی نگہبانی سونپ دی گئی-
رہنے دیجئے صاحب! جس طرح کے تجزیے ہمارے ماہرین کرتے ہیں کوئی اور کیا خاک کرتے ہونگے- کسی کو جناح کی تقریر ایک مخصوص اخبار میں نہیں مل پاتی تو وہ تقریر کے وجود کا ہی منکر ہو جاتا ہے، اور کوئی زمانے کے خود ساختہ عارف کے ہجرے میں ہوئی باتوں کو بنیاد بنا کر عالمی دنیا کے عروج و زوال کی پیش گوئی کرتا پھرتا ہے–
غضب خدا کا ہمیں دیکھتی آنکھیں اور سنتے کان بخشے ہی کیوں گئے!؟
ظلم یہ نہیں کہ آبادی کے آدھے سے زیادہ حصے کو تعلیم تک رسائی نہیں- ستم یہ ہے کہ جن تک تعلیم پہنچی انکا بھی کچھ نہیں بگڑا! –
آخر جنید حفیظ پر توہین رسالت کے جھوٹے الزام لگانے والے یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ ہی تو تھے- اب اس ملک میں دفاعی تجزیہ کاری غزوۂ ہند والے کے پاس گروی ہے اور سیاسی مباحثوں کی ذمہ داری مشرق کی جانب سے سیاہ پگڑی پہنے دنیا کو مغلوب بنانے کی نوید دینے والے سی ایس پی فیم کے قدموں تلے سسک رہی ہے–
ہمارے جون ایلیا نےبہت پہلے فرمایا تھا کہ؛
"کہیں ایسے لوگ ہیں جنہیں پڑھنا چاہیے مگر وہ لکھ رہے ہیں"

پر حضرت لکھنے والے بھلا کیوں پڑھنے لگے- جہاں جذبات بکتے ہوں وہاں عقلی دلیل بھلا کس کام کا؟ اور ویسے بھی دل کی دنیا میں عقل کی اوقات ہی کیا ہے؟ آخر کو بڑے حکیم صاحب نے بھی تو عقل کو لب بام تماشہ دیکھنے کا حقدار قرار دیا تھا- بھلا اسلاف کی تعلیمات سے بھی کوئی روگردانی کر سکتا ہے؟
ایک صاحب "کھرا سچ" کے نام سے مسلسل لوگوں کے حلق میں "جھوٹا سچ" انڈیل رہے ہیں- اور اس شدت کے ساتھ کہ اردو صحافت کے زیرک استاد محترم رضا علی عابدی کو اپنے فیس بک پہ یہ لکھنا پڑا کہ "اب تو اس مستقل جھوٹ سے متلی ہونے لگی ہے"
دنیا اخبار میں لکھنے والے ایک حضرت کے مطابق جنسی بے راہ روی اور جنسی زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ بلوغت کے بعد شادی میں تاخیر ہے– موصوف کی تجویز کے مطابق ادھر لڑکا لڑکی بالغ ہوں ادھر انکی شادی کی جانی چاہیے- نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری–
موصوف نے "برگر آنٹیوں" کی سرپرستی میں چلنے والی این-جی –اوز کو اس فحاشی اور اسکے نتیجے میں ہونے والی جنسی زیادتیوں کا ذمہ دار ٹھرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی–
اب کوئی انہیں کیسے یہ سمجھاۓ کہ "قبلہ اکثر جنسی زیادتیوں میں شادی شدہ مرد ہی ملوث ہوتے ہیں"!
موصوف نے اپنے کالم میں کم عمری میں شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کو بھی این-جی–اوز اور سیکولر (رائج الزمانہ تعریف کافر) اذہان کی اختراع قرار دیا ہے-
ہمارے اخباروں میں شدت پسندی کی حمایت اور مخالفت میں لکھے جانے والے کالموں کو ایک ہی قسم کی جگہ ملتی ہے– اور یہ سب کچھ متوازن صحافت کے نام پر کیا جا رہا ہے-
اسکی ایک مثال جنگ اخبار ہے جہاں ایاز امیر اور انصار عباسی ایک ہی صف میں کھڑے نظر اتے ہیں– پچھلے دنوں اخبار کے ایڈیٹوریل صفحے کے ایڈیٹر سہیل وڑایچ نے اس پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے اس پالیسی کی حمایت کی تھی–
گویا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے اخبار قتل کی مذمت اور ترغیب دونوں کو ایک ہی سکے کے دو رخ سمجھتے ہیں– آسکر وائلڈ نے کہا تھا؛
"کم علموں کی آراء کو وقعت دیکر اخبار ہمیں معاشرے کی جہالت سے روشناس کرواتے ہیں"
سچی بات تو یہ ہے کہ ہم دنیا کے مصائب میں اضافے کا سبب بنتے جا رہے ہیں– پہلے ہمارے جہادی اپنی بندوقیں لے کر دوسرے ممالک پہنچ جاتے تھے- اب بندوقوں کے ساتھ ساتھ پولیو کے وائرس بھی لیکر گھس رہے ہیں–
انسانی ترقی کے تمام تر اعشاریوں میں ہم آخری لکیروں کے درمیان رینگ رہے ہیں- ہم اپنے بہترین دماغوں کو ہلاک اور بدترین دماغوں کو آزادی بخشتے ہیں-
غنڈہ راج نامی ایک ہندوستانی فلم میں انسپکٹر کا کردار نبھانے والے امریش پوری سے سپاہی پوچھتے ہیں کہ سر گلی کے کتے ہمیشہ ہم پولیس والوں پہ ہی کیوں بھونکتے ہیں؟
یہ بات اب ہمیں خود سے اور اپنے انسپکٹروں سے پوچھنی چاہیے کہ ساری دنیا ہم سی ہی کیوں تنگ ہے؟ آخر ہر مسئلے کی جڑ ہمارے ہاں سے ہی کیوں برامد ہوتی ہے!!؟؟

(Originally Published here)

پاکستان کے مداری

جاوید چودھری پاکستان کے اردو صحافتی حلقوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا صحافی ہیں۔ فیس بک پیج پر ان کے چاہنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔جو واضح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ آنحضرت پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے کالم نگار ہیں۔
چوہدری صاحب اسلامی نظام حیات کے داعی ہیں اور اس کے مساوات اور برابری کے زریں اصولوں کی ترویج کرتے ہیں ۔ جب بھی یورپ جاتے ہیں تو وہاں کی ترقی کو اسلا می نظام کا مرہون منت قرار دیکر مسلمانوں کی زبوں حالی پر آنسو بہاتے ہیں اور اس شعرکی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔
مگر وہ علم کے موتی ، کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں ان کویورپ میں ، تو دل ہوتا ہے سیپارہ

موصوف کے مطابق انہوں نے چودہ سو کی نوکری سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور پھر ایک اخبار میں کالم لکھنے لگے۔ کالم لکھنے سے انہیں اتنا فائدہ ہوا کہ انہوں نےاپنے ایک بھائی کے لیے کمپنی کھول دی ۔ دوسرے سال موصوف نے دوسرے بھائی کےلیے بھی ایک کمپنی کی داغ بیل ڈال دی۔ دونوں بھائیوں کو کمپنی سونپنے کے بعد جناب دوبارہ کالم نگاری میں مصروف ہوگئے اور تاحال یہی شغل فرما رہے ہیں۔
سوال مگر یہ ہے کہ کیا کالم نگاری سے اتنا پیسہ کمایا جا سکتا ہے کہ دو بھائیوں کے لئے کمپنی کھولی جا سکے ؟ یہی چوہدری صاحب اپنے ٹی وی شو زمیں سیاستدانوں کے اس بات پر لتے لیتے ہیں کہ وہ میریٹ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں ۔ اس کی ایک مثال وہ مڈبھیڑ ہے جو ان کی سینیٹر فیصل رضا عابدی سے ہوئی۔ چوہدری صاحب کے اس اعتراض پر پروگرام کے دوران عابدی نےانہیں مخاطب کرتے ہوۓ کہا “تم خود تو پچاس ہزار کی ٹائی پہنتے ہو اور مجھ سے میرے خرچے کا حساب مانگتے ہو ” ایک صاحب اگر کالم نگاری کر کے دو بھائیوں کے لئے کمپنی کھول سکتے ہیں تو کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک سیاستدان سیاست کرکے میریٹ ہوٹل میں قیام کر سکے اور ایک آدھ کمپنی کھول کے اس کا سربراہ بن جائے؟
موصوف طالبان کے کٹر حامیوں میں سے ہیں اور اوریا مقبول جان کی طرح پانچ سالہ طالبانی حکومت کو افغانستان کے سنہری ادوار میں شمار کرتے ہیں – موصوف ہر وقت قوم کے شاہینوں کو اخلاقیات کا درس دیتے رہتے ہیں ۔یہی اخلاقیات کے مبلغ کچھ عرصہ قبل اپنے ٹی وی کے دفترمیں اپنے ایک ساتھی اینکر پر بندوق لے کر حملہ آور ہوئے۔ اگرچہ یہ واقعہ پریس میں رپورٹ نہیں ہوا مگر کل تک پروگرام میں ایم کیو ایم کے رشید گوڈیل نے اس بات پر چودھری کی خوب کلاس لے لی اور ان سے کہا کہ اخلاقیات کا جو سبق وہ دوسروں کو دے رہے ہیں وہ خود کو بھی اس سے بالاتر نہ سمجھیں
موصوف نے حال ہی میں ایک پروگرام مشرف کے کیسوں سے بری ہونے کے حوالے سے کیا – حیرت انگیز طور پر چودھری نے اپنے پروگرام میں مولانا عبدالعزیز کو مدعو کیا اور مولانا صاحب سے مشرف کے مستقبل پرتبصرے لیے۔موصوف کی علمی قابلیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسی پروگرام میں مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے یہ جھوٹا بیان داغ دیا کہ ستر کی دہائی میں جب خانہ کعبہ پر حملہ ہوا تھا تو پاکستان آرمی کے تب کے بریگیڈیر مشرف نے خانۂ خدا کو قابضین سے چھڑوایا ۔ چودھری صاحب نے اس بیان پر سبحان اللہ کہنے کے بعد مشرف کو ایک اسلامی ہیرو قرار دیا اور مختصر سی بریک پر چلےگئے۔ وہ تو بھلا ہوا کہ بریک سے واپسی پر پاکستان آرمی کے ہی ایک اور ریٹائرڈ افسر نے اس واقعے کی تردید کر کے چودھری صاحب اور قصوری کی جہالت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
موصوف سائنس پر بھی بھرپور تبصرے فرماتے رہتے ہیں اور یورپ کی ایجادات و افکار کو مسلمانوں کی ذہنی کاوشوں کا چربہ قرار دیتے ہیں ۔ اپنے ایک آرٹیکل میں موصوف نے نیوٹن کے عمل اور ردعمل کے قانون کی جڑیں افغانستان میں پی جانے والی قہوہ اور اس کے بعد آنے والے پیشاپ میں ڈھونڈ نکالیں ۔اس آرٹیکل میں جناب لکھتے ہیں “نیوٹن زندگی بھر یہ حقیقت فزکس کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتا رہا مگر افغان نیوٹن کی پیدائش سے دو ہزار سال قبل نہ صرف اس حقیقت سے واقف ہو چکے تھے بلکہ یہ پیشاپ کو جواب چائے کا نام دیکر نیوٹن سے آگے نکل گئے ” ہمیں اس بات پر کسی قسم کا تعجب نہیں ہوتا جب مسلمان اس قسم کے دانشوروں کو پڑھ کر تمام ایجادات کو مسلمانوں کی مہربانی سمجھتے ہیں ۔
چوہدری صاحب شدّت پسندی اور جدّت پسندی میں حسین امتزاج پیدا کرنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے- موصوف نے حال ہی میں ملالہ پر ایک آرٹیکل لکھ ڈالا ۔ آرٹیکل میں موصوف نے  قادیانیوں کو پاکستان میں  مساوی شہری حقوق حاصل ہونے کا انکشافی دعویٰ کیا، جبکہ اسی آرٹیکل کے شروع میں ڈاکٹر عبدالسلام کو قادیانی اور آئینی طور پر غیرمسلم ہونے کا طعنہ بھی دے لیا، اور ان کی ناقدری ہونے پر اپنے لوگوں کی علم دشمنی کا ماتم بھی کر لیا، اور یورپ کی علم دوستی اور جوہر شناسی کے گن گانے لگے۔
جاوید چودھری ، انصار عباسی، اوریا مقبول جان اور اس قبیل کے دوسرے خود ساختہ دانشور ہی اس ملک میں پھیلی کئی ایک بیماریوں کے متعدی جراثیم ہیں ۔یہ لوگ لاکھوں جوانوں کے اذہان کی پراگندگی کے ذمہ دار بن رہے ہیں۔شاید انہی
لوگوں کے بارے میں خلیل جبران نے کہا تھا “افسوس اس قوم پر جس کا فلسفی مداری ہو”۔

(Originally Published here)

Tuesday, November 20, 2012

قیام امن کے لئے کیا کرنے کی ضرورت ہے ؟؟




برسوں پھلے جب ما ر ٹن لوتھر کنگ نے اپنی مشہور زمانہ تقریر ‘میرا اک خواب ہے’ فرمایا اور عدم تشدد پہ مبنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا تو شاید بہت کم لوگوں کو یقین ھو گا کہ عدم تشدد پہ مبنی کوئی تحریک کامیاب ھو سکتی ہے – مگر آج دنیا کنگ کی عظمت کو سلام پیش کرنے کے ساتھ اس کے آفاقی اصولوں کو اپنا رہی ہے
برسوں پھلے جب ہندوستان کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کا اپنا فلسفہ پیش کیا تو بھی لوگ شش و پنچ میں پڑ گئے – مگر آج ‘گاندھی گیری’ نصاب کا حصہ ہے- اور دنیا بھر کے امن پسند گاندھی کے مقلد ہیں
بات جب بھی امن کی ہوتی ہے تو پھر کچھ رویےّ، کچھ عادتیں اور سوچ کے دھا رے تبدیل کرنے کی ضرورت وتی ہے- امن ایک ارتقائی عمل ہے جو کہ صبر اور برداشت کا متقاضی ہے- امن انقلابی عمل ہر گز نہیں ہے اور نہ کبھی رہی ہے

جنگ بدقسمتی سے ایک پیچیدہ حقیقت ہے- جنگ کے خاتمے کے لیے بہت سا رے  عملی اقدامات کرنے  کی ضرورت ہے- پہلا کام زبان اور اسکی استعمال سے متعلق ہے- ہمیں اپنے زبانوں سے ان الفاظ کا خاتمہ کرنا ھو گا جو کہ نفرت اور تشدد پھیلانے کا باعث بن جا تے ہیں- ‘خونی انقلاب’ اور ‘سرعام پھانسی ‘چڑھا نے جیسے الفاظ کا استعمال معاشرے میں اور بالخصوص جوانوں میں نفرت اور انتقام کا جذبہ ابھارتے ہیں
دوسرا قدم ان شخصیات اور تنظیموں کے خلاف اٹھانے کی ضرورت ہے جو صرف طاقت کو ہی اثاثہ سمجھتےہیں، اور صرف اس لیے طاقت کا حصول چاہتے ہیں تا کہ وہ اس طاقت کو استعمال کر کے دوسروں پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکیں
انسانی نفسیات کے بہتر سماجی کردار کی نشوونما ایک ایسا میدان ہے جس پہ کا م کرنے کی شدید ضرورت ہے- ہمیں انسانی فطرت کے بارے میں لوگوں کا نقطہٴ نظر بدلنا ھو گا- انسان کے بارے میں یہ نقطۂ نظر ترک کرنا ھو گا کہ وہ صرف جنگ کی صورتحال پیدا کر سکتا ہے- جنگ کا حصہ بن جاتا ہے اور پھر جنگ کی غذا بن سکتا ہے-  بلکہ انسان ایک بڑا موسیقار، ایک عظیم شاعر، ایک مصور، ساینسدان اور فلسفی بھی بن سکتا ہے، اور یہی انسانیت کی آخری منزل ہے اور ہونی چاہیے
لوگوں کے مابین باہمی رابطے بڑھانے کی جتنی اہمیت اب ہے، اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا- ہمارے درمیان غلط فہمیاں ہمارے بیچ رابطوں کے فقدان کی وجہ سے بڑھ  جاتے ہیں- بین المذاھب مکالمے اپس کے غلط فہمیوں کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں- تقلید کی بجاۓ تنقید کی روش کو اپنانا ھو گا- تقلید ہر اس شخص کی جو رنگ، نسل، زبان اور مذھب سے بالا تر ھو کر نسل انسانی کی فلاح کے لیے سوچے اور تنقید ہر اس شخص پہ جو اپنے خود ساختہ مقاصدکے حصول کی خاطر مذھب، رنگ، نسل اور زبان کی بیساکھی استمعال کریں- ایسی تمام شخصیات کو رد کرنے کی ضرورت ہے جو کہ ارض خدا پر بندگان خدا کے مابین فساد کا با عث بن جاتے ہیں
بدقسمتی سے اسلام کے اندر فلسفے کی حوصلہ شکنی کی گئی- منطق کی مخالفت نے فروھی اختلافات کو جنم دیا- تحریر سے مخالفت کا جواب دینے کی بجائے تلوار سے جواب دیا جانے لگا- یہاں مجھے رہ رہ کے اسلا م کے دو بڑے علما کی بحث یاد آتی ہے جب ایک عالم دوسرے سے کہتا ہے “میں کہتا ہوں کہ اپنی بات ثا بت کر مگر تو جواب میں خنجر نکا ل لیتا ہے-” فلسفے کی تجدید وقت کا اہم تقاضہ ہے- نوجوانوں کو ان علوم اور شخصیات سے متعارف کرانے کی ضرورت ہے جنہوں نے فقی مسائل کی  بجائے امن، برداشت اور حلیمی کے آفاقی تعلیمات کا درس دیا- مسخ شدہ تاریخ  پڑھنے کی بجائے حقیقی تا ریخ کو کھنگالنا ھو گا اور فقہی علما کی بجائے ان علما کی جانب مڑنا ھو گا جنہیں آج تک ملحد سمجھا گیا اور جن کے تعلیمات کو بدقسمتی سے  کسی بھی وقت نصاب میں شامل کرنے کی زحمت محسوس نہیں کی گئ  جیسے کہ ابن رشد، ابن عربی، عمر خیام، ملا صدرہ، رومی اور اس قبیل کے دوسرے حضرات
"زمین سلامت بھچیکو ای وجہ ہایا- محترم انسان دنیاری کم نومہ بونی”- کھوار ادب کے مشہور صوفی شا عر کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ زمین سلامت رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انسانیت کا درد رکھنے والے لوگ اب بھی کائینات میں موجود ہیں- سانحہ چیلاس میں وہ لوگ جنہوں نے اپنی جان داؤ پر لگا کر بے گناہ لوگوں کی جن بچائ، وہ انسانیت کا درد رکھنے والے عظیم لوگ تھے- اس طرح کے لوگ کسی بھی معا شرے کے روشن ستارے ھو تے ہیں جن کے وجود سے انسانیت اپنے وجود کا احساس چیخ چیخ کر دلا دیتی ہے-  اور اس بات کا یقین بھی دلا تی ہے کہ ظلم و بر بر یت کے اندھیروں میں اب بھی روشنی کے کچھ چراغ ٹمٹماتے ہیں جو کہ پیروکاران امن اور محبت کو حقانیت اور سچائی کا راستہ دکھا لینگے- ایسے عظیم انسان دوست لوگوں کی قدر اور ان کی حوصلہ افزائی  معاشرے کے ہر فرد پہ لازم ہے
امن ایک سادہ سا عمل نہیں ہے- یہ ہر اس شے کا متقاضی ہے جو ہما رے پاس ہے- مکمل طاقت، تمام خواب،تمام 
توانائی، مکمل ترجیحات ، منظم منصوبہ بندی اور مسلسل کوشش

(Originally posted here)

Monday, November 12, 2012

Do we really need a revolution




 
Our living in a world full of tragedies is a universal fact. Social fabrics are shattered. The dissatisfaction of people with the functions of their respective governments has put them in a position to ask and preach for revolution. The term revolution has been framed as hanging political leaders and sacking governments through mob violence by various political leaders and writers in Pakistan. Who will lead such revolutions and what could be the repercussions are still ambiguous.
Revolutions have always been hijacked historically. Revolutions have always breed hatred, violence and sense of superiority among the suppressed, emotional and exploited revolutionaries. Once in power, these exploited revolutionaries shed more blood, kill more people, suppress their opponents with more brutal tract of force and turn to fascists gradually.
The recent Arab spring is an apt example of this. The so-called Arab Revolutionaries were such sick-minded that they even distorted the dead bodies of their opponents. Reports also revealed that the young brainwashed revolutionaries even sodomized the body of Qaddafi.
“The Muslim world in general and Pakistan in particular is not fit for revolution,” says Veteran journalist and intellectual Khalid Ahmad. “No one realizes that revolutions are pure destruction, at times rescued by an intellectual realization about where they went wrong”, he observes.
In the world of their fantasies, the revolutionaries are more concerned in suppressing their opponents instead of creating a stable environment leading to prosperity and peace based on humanistic values.
We are a society where self-congratulating has surpassed self-criticism. Primarily, such societies don’t need revolution, but evolution. Our futile efforts in hurrying for revolution will leave us with even more blood in streets, heap of bodies and chaos. Any urgent need to reform the society must never be revolutionary, rather evolutionary.
(Originally posted here )

Women and Voting in Pakistan


Orders of Election Commission Pakistan to fully ensure the women participation in voting has been out rightly rejected  by various political parties.  The political parties argue the ongoing war against terror and militancy in KPK and tribal areas a hindrance to implement the decision of ECP in spirit.
Earlier the ECP, during its meeting had directed all political parties to ensure the emancipation of women in voting process and had decided not to accept the polling result of any constituency having less than 10% of female voting turn-out.
The constitution of Pakistan guarantees to ensure women empowerment in the society, but Pakistan – a patriarchal society finds it difficult in implementing such constitutional provisions.
Sub-continent has a disturbing history of women seclusion in electoral process. Although the right of ‘women suffrage’ was extended to the whole Europe in early 20th century, but in sub-continent reserved seats for female was introduced under Indian Act 1935.
Developed countries have usually highest female voting turn out. Women had 7% more turn-out during the previous presidential elections according to the CAWP’s findings. The statistical data highlights that from 1996 to 2008, the female population had relatively highest voting turn-out. The state polls also lead to the same conclusion.
The case with developing countries including Pakistan is different, though. In Pakistan, female are not allowed to vote in various constituencies. Pakistan currently has 38.8 million registered male voters compare to 32. 2 million female registered voters. Female voters face severe hurdles in casting their votes and getting themselves to the highest echelons of the power corridor.
The female voting turn-out in Pakistan has less to do with the war on terror and militancy. The issue of female voting turn-out has a cultural phenomenon and a question of honor in the areas where according to people bringing out women for voting would bring bad names to their honor.
Political Parties in KPK don’t issue tickets to women candidates. In the lower house of Assembly, elected women representatives have very less proportion comparing to their male counterparts. Pakistan has 17 directly elected female representatives Out of 272 general seats of National Assembly. Of this, 10 members belong to PPP, 3 to PMLN, 3 to PML Q and one Independent candidate later joining PMLN. Of these 17 female members, 5 belong to Sindh and remaining to Punjab. There is no single female member from KPK and Baluchistan.
According to the research of National Commission on the Status of women, in March 2001 during the local government elections, thousands of women in over 13 out of the 56 union councils of Swabi were barred from casting votes after contesting candidates signed an agreement In NWFP, the local Jirga member, religious parties and even major political parties’ members were part of agreement.  Further, women in Dir, Kohistan, Batagram, and Mardan and from other parts of the country were not allowed to file nomination papers as candidates. Moreover during the local government elections in 1950-60, two candidates, Sher Ali Khan and Atta Ullah Khan, had an agreement in Pai Khel tehsil of district Mianwali that no women would be allowed to cast her ballot.  This agreement is still practiced to date.
These incidents clearly negate the militancy and insurgency to be the hurdle in women participation in voting stated by political parties as there is no military insurgency in Kohistan, Batgaram, Shangla and Mianwali. The issue is tribalism and tribal honor or more precisely the male chauvinism.
Instead of facilitating direct participation of women by allotting the party tickets, the Pakistan has opted for reserve seats for women in both the upper houses and lower houses only to facilitate the selection of women belonging to powerful political and landlord backgrounds.
It’s a high time that ECP takes up the issue seriously. It should ask political parties to allot tickets to its female workers in a certain proportion. The political parties not issuing tickets must be penalized. Moreover, the clergies and tribal elders opposing women voting must be trailed under constitutions. Any constituency having less than 20% of women voting turn out should have its result postponed and provisions of re-elections in all such all constituencies must be made.
Pakistan can’t afford to continue the half population hostage to the tribal elders and male chauvinists. Political awareness and political education in collaboration with civil-society organization should have a priority among the various objectives ECP has designed. National Assembly has passed various important bills during past few years including Anti-harassment laws, but has ignored the basic right of voting for female population. It is also responsibility of National Assembly along with ECP to ensure and empower the women in Pakistan. Until such timely decisions are not made, Pakistan’s half population – having diminishing voting trends of 45% in KPK, 41% in Sindh, 37% in Punjab and 19% in federal area in their circles will face the subjugation in the hands of its male law-makers and would be denied of their basic rights.
(Originally posted here)

Sunday, September 30, 2012

Building the Future Youth



Youth are not a stakeholders in the development process but they are now considered as partners in development. Youth groups and their increasing population have led to many movements around the globe. The Tunisian movement, The Rebels in Egypt and Libya were orchestrated by ambitious young people.

Whether Pakistan will witness a bright future as a result of youth activism is not certain, but one thing is sure that youth would be playing an important role in shaping the future Pakistan. To Imran Khan these Young voters will shape the future of Pakistani election. Few analysts are of opinion that  the voting trends among young people is the worst fear of President Zardari and Nawaz Sharif as the PTI Chairman has highest following of urban middle class which will have a great impact on upcoming election as half the voter in next election would be young voters. Same is the opinion of NADRA.


Militancy, however, is not the only attribute of youth in Pakistan. The young blood of Pakistan has come up with many innovative social interventions and initiatives which have put greater impacts on lives of many people in Pakistan and inspired many others to put their common strength for community uplift.
Eight years ago, a brave 16-year-old girl in Peshawar set up an organization to challenge the culture of violence that was reinforcing the oppression of women.

Today, the  Aware Girls is contributing significantly for gender equality and promotion of peace with its members aging in between 15- 29 year.

 Pakistan Youth Alliance is another youth initiative helping communities in times of natural disasters. The focus of PYA is mainly KPK and Punjab. The organization has successfully completed many projects against religious militancy and fundamentalism in Pakistan, some of such activities included Street Theater in Swat – Challenging extremism, inspiring leaders, Peace Parade on 14th Aug, 2011 and series of consultative dialogues on countering religious fundamentalism.

Challenging militancy in the Upper Dir is another organization, the Non-Violence and Peace-Building Network with its unique intervention strategies of Home based Peace Schools, Music for Peace and Peace club. The initiative has been started by a young man belonging to the region.

Among the highest mountains of Gilgit-Baltistan, a new volunteer movement -  Gilgit Baltistan Volunteer Movement is fighting against the sectarian menace through social media and practically. During the 2010 floods in Ghizer – one district of GB, the GBVM deployed its volunteer and distributed relief goods worth of million rupee. The relief goods were donated by people in Islamabad, and Rawalpindi which were collected here and sent to Gilgit through Army choppers and all these activities were handled by the volunteers of GBVM.
Today media is a thriving business in Pakistan. But there is a concept of ‘volunteer journalism’ initiated by Pamir Times. Started as a blog, today Pamir Times is the only source covering the Gilgit Baltistan. Its young volunteer journalists are busy to cover the news among the rough mountains of GB.

Pakistani youth are progressive. The government and international community should support the emerging youth groups and sane voices. Building the capacity of these youth organizations would enable Pakistan in creating a moderate voice against obscurantist ideology and growing religious fundamentalism posing grave threats to the basic survival of the country.

Saturday, August 11, 2012

Making Democracy Work



The citizens of third world countries lurk between despair and hope. Their shattered hopes have made them more indifferent to the state affairs. In 21st century, when the developed world is benefitting from the tested wisdom of democracy, people in the developing countries are either looking towards military dictatorship or a narrow fundamentalist version of electoral democracy as the only way of salvation.
Pakistan, like other developing countries has been facing constitutional crisis since its inception. Our failure in drafting a cohesive constitution has paved the way for military despotism. In recent past frequent change of governments has been as common in Pakistan as it used to be in France during the 17th century.
There are no failed states, but failed democracies. The failure of democracy is the cause of state failure. Saving the states can be achieved only by saving democracies. It doesn’t matter which particular party heads the democratic governments.
One of many qualities of democratic governance is its self-correcting nature. Accountability of their elected representatives by public through transparent voting is still the best way of political transformation without hanging politicians, bloody violence and fancy revolutions. We should use no other means for political transformation than relying on conventional wisdom of people.
As some people are blaming democracy for all our national ills, amidst such confused narratives, our aim must not be wrapping democratic institution and seeking alternative ways as a governance model but to seek for ways whereby democracy works better.
Informed public opinion is one way through which democracy can flourish. Pakistan has changed. People now don’t have only one state sponsored television to influence public opinion. The thriving media industry can play huge role in shaping public opinion in favor of democracy. The more informed citizens Pakistan has, the more political and policy options will emerge.
Devolution of powers and emergence of regional political parties and groups will strengthen democracy. The 18th Amendment which empowers provinces by decentralizing administrative powers will have the most significant impact on democracy in Pakistan. Blaming federation for usurping provincial authority and misleading people on the bases of such rhetorics will not influence public opinion anymore. More practical policy oriented parties will emerge to lead the people in right direction.
Democracy fails because of high expectations of people. People have high expectations with political parties because they invest their time, energies and money at grassroots levels for them. Failing fulfilling such expectations create annoyance and resentment among people. That is not the case with dictators as they come to power by force and people have less affiliation with them. The expectations of people can be fulfilled by delivering result and fulfilling the political promises made with them. Democracy, in other words must be result oriented, not a mere blame game rhetoric aiming to malign the opponent political parties.
Fostering the cooperation with civil society organizations can lead to a strong democracy. With their international agendas of human rights, pluralism, good-governance, capacity building of communities and humanitarian aids, these civil society organizations can offer innovative ideas and ideals to governments and politicians as per their international exposure and their experiences of working with various national, international, ethnic and linguistic groups.
Pakistan, unfortunately, has always been at odd with civil society organizations. Public-Private partnership should be articulated as a top policy agenda for a viable and result oriented democracy.
In the last analysis, it is not the responsibility of politicians and parliament alone to uphold the democracy and work for its sustainability. The behavior of each state institution, particularly the judiciary and media to act in a democratic way and according to their prerogative authority and minimal interference with other state institutions can foster democracy in Pakistan.


(Originally Posted here.)